حمدحمد وثنا ہو تیری کون ومکان والے
اے رب ہر دو عالم دونوں جہاں والے
محمد اسماعیل میرٹھی
حمد وثنا ہو تیری کون ومکان والے
حمد | و | ثنا | کون | و | مکان | والے |
حمد اس کوکہتے جس میں اللہ کی تعریفیں کی جائے | اور | تعرف ،ستائش | کون ،حرف استفہام | اور | رہنے کی جگہ ،بود باش کی جگہ
| والے یعنی اے اللہ،اس نے |
اے رب ہر دو عالم دونوں جہاں والے
اے | رب | ہر | دو عالم | دونوں | جہان | والے |
اے حرف ندا ہے کہ جس سے کسی کو پکا را جائے | عربی لفظ جس کے معنی پالنےکےہیں | ہر | دو دنیا ،ایک یہ دنیا ایک مرنے کے بعد کی دنیا | حرف تعداد | دنیا
| والے یعنی اے اللہ،اس نے |
بن مانگے دینے والے عرش و قرآن والے
بن | مانگے | دینے | والے | عرش و | قرآن | والے |
بغیر | طلب | عنائت کرنا | اس سے یعنی اللہ | وہ جگہ جہاں اللہ مستوی ہیں، تخت الٰہی، و کے معنی اور | اللہ کی آخری کتا ب جوتمام دنیا کے رہنے والوں کے لیے حضرتﷺ پر اُتری | والے یعنی اے اللہ،اس سے |
گرتے ہیں تیرے در پر سب آن بان والے
گرتے | ہیں | تیرے در | پر | سب | آن بان | والے |
اوپر سے نیچے آنا | فعل ناقصہ،جمع کے لیے بولا جاتا ہے | تمہارے دروازہ پر | حرف جار | تمام | صفت، شان شو کت | والے یعنی اے اللہ،اس سے |
بے شک رحیم ہے تو رحمت نشان والے
بے شک | رحیم | یے | تو | رحمت | نشان | والے |
اوپر سے نیچے آنا | صفت، رحم کرنے والا | فعلِ ناقصہ واحد کے لیے بولا جاتا ہے | واحد حاضر کے لیے بولاجاتا ہے | خدا کی مہربانی ِحرف تحسین | نقطہ | والے یعنی اے اللہ،اس سے |
1۔۔۔۔فرہنگ
لفظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معنی
کون و مکان ۔۔۔۔زمین اورآسمان
بِن مانگے۔۔۔۔مانگنے کے بغیر
آن بان ۔۔۔شان و شوکت والے۔ عزت والے
رحیم ۔۔۔۔رحم کرنے والا
یومِ جزا۔۔۔۔۔۔قیامت کا دن
2۔۔۔۔شاعر خدا سے کیا مانگتا ہے؟
جواب: شاعر خدا سے سیدھے راستے پر چلنےکی توفیق مانگتا ہے
2۔۔۔خدا کی نظر میں کون سے لوگ شان وشوکت والے ہیں ؟
جواب: خدا کی نظر میں پرہیزگارلوگ شان وشوکت والے ہیں
خدا کی نظر میں وہی لوگ شان وشوکت والے ہیں جوپرہیزگار ہیں اور خدا کی بتائی ہوئی راہ پرچلتے ہیں
3۔۔۔شاعر کس سے مدد مانگتا ہے؟
جواب: شاعر خدا سے مدد مانگتا ہے
4۔۔نظم کے آخری مصر ع میں شاعر نے کیا دُعا مانگی ہے؟
جواب: نظم کے آخری مصرعے میں شاعر مانگی ہوئی دُعا کو قبول ہونے کی استدعا کی ہے
3۔۔۔خالی جگہیں بھر لیجیے:
- ۔۔۔گِرتے ہیں تیرے در پر سب شان وبان والے
- امداد تجھ سے چاہیں سب کا سہارا تو ہے۔
- اورنام جن کا اب تک ہے یاد گارِ عالم
- ہم عاجزوں کواُن کی نہ راہ چلانا
دنیا میں کافی دولت مند لوگ گزرے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم ایسے ہیں جنہیں یاد کیا جاتا ہے اس کے برعکس خدا پرست اورخدا شناس لوگوں کو ہم آج بھی یاد کرتے ہیں جہاں اکثر دولت مند لوگ اپنے لیے جیتے ہیں، وہاں بزرگ اورخدا پرست لوگ اپنی زندگا نیاں دوسروں کےلیے وقف کرتےہیں۔کسی ایسی شخصیت کے بارے میں کچھ باتیں لکھیے جو بہت پہلے مرچکا ہو، لیکن لوگ اُسے آج بھی یاد کرتے ہیں
حضرتِ سخی زین الدین ولیؒ
یوں تو پوری وادئےکشمیر زمانہ قدیم سے ریشیوں ،مقیروں اوردویشوں کی آرام گاہ رہی ہے جن کی پاک سیرت وصورت سے یہ وادی ہمیشہ فخر کرتی رہے گی ان ہی اللہ کے پیاروں میں ایک ریشی ولی سرِزمیں کشتواڑ میں تولدہوا جن کا پہلا نام زیا سنگھ تھا سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ایک دن زیا سنگ کا فی بیمار پڑ گیا گھروالوں نے کافی دوائیوں سے علاج کیا مگر سب ضائع ،بچے کی بیماری میں کچھ فرق نہ پڑا۔ اتفاقاَ وہاں سے علمدارِکشمیر کا گذر ہوا بچے کی حا لت کو دیکھ کر کہا کہ میں بچے کو ابھی ٹھیک کرتا ہوں مگر ہماری ایک شرط ہے کہ اسے آپ ٹھیک ہوجانے کے بعد کشمیر لاؤں گے ۔وعدہ کے بعد جب بچہ ٹھیک ہوگیا توماں نے اپنے بچے کو سرینگر کشمیر پہنچایا جہاں زیا سنگھ کا نام بدل کر حضرت زین الدینؒ رکھا گیا وہ پھر اپنے پیر کے کہنے پرمقام کی غارمیں اللہ کی عبادت و ریاضت میں محو رہنےلگے ۔اس مرد خدا نے بعد میں ایسی روحانی کمالات دکھائے۔ جنہیں کشمیر کے لوگ آج بھی آپس میں تذکرہ کرتے رہتے ہیں اللہ سےدُعا ہے کہ آپ اس ولی خدا کے درجات اوربلند فرمائیں


0 تبصرے