KABER AKHTER UL IMAN/قبر اخترالایمان ,CLASS 9TH URDU

  قبر(اختر الایمان)

عجم کے شہروں میں اک شہر کا ہے یہ قصہ 

یہ رفت وبود کا اِک سلسلہ جو قائم ہے

بھنورمیں جس کےہر اک چیز ڈوب جاتی ہے 

سنا ہے اس میں کسی قصبے کا رئیں بڑا

پھنسا کچھ ایسا کوئی چال کار گرنہ ہوئئ

ہر اک طبی مدد ہردوا علاج غرض

وہ سب جو قبضہ انسان وممکنات میں تھا

کیا تمام مسیحاقریب ودور جو تھا

طلب کئے گئے سب کر زرکثیر دیا

مگر خدا کو جو منظور تھا وہ ہو کے رہا

کیا خدا کو جو منظور تھا وہ ہوکے رہا

اجل نے بیٹے سے محبوب باپ چھین لیا

خبر یہ پھیل گئی دور پاس پل بھر میں

ہر ایک روتاتھا زاروقطارسن سن کر

پسر کے بین کا دل پر اثر شدیر ہوا

وہ سینہ پیٹ کے کہتا تھا باربار پدر

چلے ہو ایسی جگہ چھوڑ کر ہمیں سب کو

جہاں نہ دوست نہ ہمدم نہ کوئی مونس ہے

اندھیری کوٹھری ہوگی اکیلے رہنا ہے 

نہ کھانا پانی جہاں ہے نہ روشنی کا گذر

وہاں پہ جیسی بھی گزرے گی خود ہی سہنا ہے

ہر ایک چیز کو تر سو کے ہائے ہائے وہاں

کئی مدد کو نہ آئے گا ایسی دینا ہے

غریب بھی کوئی شامل تھا اس جنازے میں

اوراپنے نورِ نظر کو بھی ساتھ لایا تھا

سنی جو آہ وبگا اس نے کچھ نہیں سمجھا

پلٹ کے باپ سے پوچھا بہت ہی سادگی سے

ہمارے گھر لئے جاتے ہیں کیا انہیں بابا؟

فرہنگ 

عجم: غیر عرب، عام طور پر ایران کے لیےاستعمال ہوتا ہے

رفت وبود: آنا جانا ، مراد ہے اس دُنیا میں آنے اورجانے سے

کارگر ہونا: کامیاب ہونا

مسیحا: خضرت عیسی علیسہ السلام کا لقب ، کیونکہ وہ بطور معجزہ مردوں کو زندہ کرتے تھے

زرِکثیر : بڑی رقم

مونس: اُنس رکھنے والا،محبت رکھنے والا ،ہمدرد

پسر: نیٹا

آہ و بکار: رونا پیٹنا،ماتم کرنا

سوال :اخترالایمان کی حالات زندگی اورشاعری پرایک نوٹ لکھیے؟

اخرالایمان 
جواب: حالاتِ زندگی:

اختر الایمان کی پیدائش اُترپردیش کی ایک تحصیل نجیت آباد،ضلع بجنورکے ایک گاؤں راؤ کھیری میں 12نومبر 1915 ٰٰء میں  ہوئئ  آپ کا پیدائشی نام راؤ فتح محمد تھاآپ کے والد صاحب کا نام حافظ  فتح محمد تھا۔گھر کی مالی حالت نہائت خراب تھی۔ مجبورا دہلی کے ایک یتیم خانہ میں داخلہ لینا پڑا۔ دہلی یونیورسٹی سے بی اے پاس کیا علی گڑھ یونیورسٹی سے بھی کچھ تعلیم حاصل کی۔فلموں میں جانے سے پہلے محکمہ سیول سپلائز میں بھی کام کیا  آپ کا انتقال9مارچ 1996 ٰءمیں ممبئ میں ہوا۔



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے